اداکار اکثر ایک دوسرے کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔ جس اداکار کے ساتھ انہوں نے ہیروئن کا کردار ادا کیا ، ایک سال بعد وہ ڈراموں میں اسی اداکار کی ماں بن گئیں ۔ یہ واقعی کچھ ایسا ہے جب آپ اداکار کے بارے میں سوچتے ہیں جو ایک ہی شخص کے ساتھ دو کردار ادا کر رہا ہے ، ان ڈراموں میں اداکار ۔ ایسا کرنے کے لیے اداکار اور دوسرے اداکار کو بہت باصلاحیت ہونا پڑتا ہے ۔
آپ اس چیز کو بہت زیادہ ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں جہاں مرد اداکار ہمیشہ ہیرو ہوتا ہے ۔ جو اداکار اس کے ساتھ فلم میں ہے وہ چند سال بعد ہی ماں کا کردار ادا کرنے لگتی ہے ۔ یہ واقعی عجیب ہے کیونکہ مرد اداکار ، ہیرو وہ کچھ وقت کے لیے ہیرو کا کردار ادا کرتا رہتا ہے ۔ لیکن جس اداکار کو اتنی دیر تک ہیرو کا کردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملتا وہ ماں بن جاتی ہے ، کچھ سال بعد فلم میں ۔ ہیرو ، مرد اداکار وہ ہمیشہ ہیرو ہوتا ہے ۔
زیب قیوم بھی ان اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جو آج کل ڈراموں میں ہیرو کی ماں بن رہی ہیں ۔ یہ وہ ہیرو ہیں جن کے ساتھ زینب قیوم بطور ہیروئن کام کرتی تھیں ۔ اب زینب قیوم ڈراموں میں ان ہیروز کی ماں کا کردار ادا کر رہی ہیں ۔
تاہم ، زیب قیوم کو اس کی فکر نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ زیادہ اہم ہیں ۔
اداکارہ نے ایک انٹرویو میں اس بارے میں بات کی ۔ اس نے کہا کہ وہ تھین کی ہیروئن ہے ۔ فلم میں بچوں کی ماں بننا واقعی مشکل ہے ۔ یہ ایک مشکل کام ہے ۔ اداکارہ کا خیال ہے کہ ڈھول میں ماں کا کردار ادا کرنا ایک چیلنج ہے ۔
زیب قیوم نے کہا کہ لوگ اکثر ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ فیصل قریشی یا ہمایوں سعید جیسے اداکاروں کی ماں کا کردار کیوں قبول کرتی ہیں ۔ اس سے یہ سوال بہت پوچھا جاتا ہے ۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ زینب قیوم اس طرح کے کردار کیوں نبھاتی ہیں جیسے فیصل قریشی کی ماں یا ہمایوں سعید کی ماں ۔
انہوں نے مجھے بتایا کہ میرا جواب یہ ہے کہ مجھے اداکار سے زیادہ پروڈکشن ہاؤس اور ہدایت کار زیادہ پسند ہیں ۔ مجھے پروڈکشن ہاؤس اور ہدایت کار پسند ہیں ، وہ میرے لیے اداکار سے زیادہ اہم ہیں ۔ پروڈکشن ہاؤس اور ڈائریکٹر وہ ہیں جو مجھے پسند ہیں ۔
زیب قیوم نے مزید کہا کہ میں کردار پر زیادہ توجہ دیتی ہوں ۔ میرے لیے جو چیز اہم ہے وہ کردار ہے جس میں میں اپنی صلاحیتوں کو زیادہ دکھا سکتا ہوں ۔ میں ایک ایسا کردار چاہتا ہوں جو مجھے یہ دکھانے کا موقع فراہم کرے کہ میں کیا کر سکتا ہوں ۔ زیب قیوم کا خیال ہے کہ کردار بہت اہم ہے ۔ لہذا وہ اس کردار پر توجہ مرکوز کرتی ہے جو اسے اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے میں مدد کرے گا ۔
سوشل میڈیا صارفین نے زینب قیوم کی اپنے کام کے لیے لگن کو سراہا اور کہا کہ ایک فنکار کی بھی یہی سوچ ہونی چاہیے ۔