بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں ایک بیان دیا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ امریکی فوج کو دنیا کے کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں ۔
کمانڈر ان چیف کے پاس یہ حکم دینے کا اختیار ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کمانڈر ان چیف ملک کا انچارج ہوتا ہے ۔ کمانڈر ان چیف کو وہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا جو کمانڈر ان چیف کرنا چاہتا ہے ۔ کمانڈر ان چیف کنٹرول میں ہوتا ہے ۔ اسی لیے کمانڈر ان چیف یہ حکم دے سکتا ہے ۔
امریکی صدر نے کچھ کہا ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کسی ملک پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔ کسی ملک پر حملہ کرنے کا فیصلہ امریکی صدر اخلاقیات اور سوچ کے اصول کی بنیاد پر کرتا ہے ۔ جب امریکی صدر کو اس طرح کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے تو امریکی صدر اس بارے میں سوچتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔ کسی اور کو واقعی اس کی فکر نہیں ہے ۔ امریکی صدر یہ فیصلہ اخلاقیات اور سوچ پر غور کرتے ہوئے کرتے ہیں ۔
صدر ٹرمپ نے آج ایک بیان دیا ۔ امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو وینزویلا میں فوجی کارروائی کرنے سے پہلے کانگریس سے اجازت لینا ہوگی ۔
اس قرارداد کو کافی حمایت حاصل ہوئی ۔ بپناہ اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا ۔ دوسری طرف سینتالیس اراکین نہیں چاہتے تھے کہ قرارداد منظور ہو ۔ انہوں نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا ۔
صدر ٹرمپ واقعی اپنی ہی پارٹی کے سینیٹرز سے ناراض تھے جنہوں نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریپبلکن سینیٹرز مستقبل میں سینیٹرز نہیں بن پائیں گے ۔ صدر ٹرمپ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے سینیٹرز کو دھمکی دی ۔ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ریپبلکن سینیٹرز کے پاس صدر ٹرمپ کی وجہ سے وقت ہوگا ۔
صدر ٹرمپ نے وینیزویلا کے خلاف فوجی کارروائی کے حصے کو روکنے کا فیصلہ کیا ۔
آپ کو یاد ہوگا کہ 3 جنوری کو کیا ہوا تھا ۔ یہ وہ دن تھا جب امریکی افواج وینیز ویلا میں داخل ہوئیں ۔ انہوں نے محل میں کچھ کیا ۔ صدر مادورو کو حراست میں لے لیا گیا ۔ اس وقت صدر مادورو کے طور پر ان کی اہلیہ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا ۔
صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کے سونے کے کمرے سے جہاز پر لے جایا گیا ۔ یہ وہ ہیلی کاپٹر تھا جس نے انہیں امریکہ منتقل کیا ۔ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ اس ہیلی کاپٹر پر تھے جب ان کا تبادلہ کیا گیا ۔ ہیلی کاپٹر صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکہ لے گیا ۔
وینیز ویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ مشکل میں ہیں ۔ ان پر نیویارک کی ایک عدالت میں کچھ سنگین جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ ان جرائم میں منی لانڈرنگ شامل ہے ، جو کرنا بہت بری بات ہے ۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان الزامات کا سامنا ہے ۔ یہ ایک بڑی بات ہے ۔
صدر مادورو اور ان کی اہلیہ نے کہا کہ لوگ ان کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اس سے متفق نہیں ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ یہ گرفتاری نہیں تھی ، یہ ایسا تھا جیسے کوئی اسے اغوا کی طرح زبردستی لے گیا ہو ۔ صدر مادورو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ اب بھی وینزویلا کے صدر ہیں ۔
امریکہ نے وینیز ویلا پر حملہ کیا ۔ یہ وینیز ویلا کے صدر کو پکڑنے کی کارروائی تھی ۔ بہت برا لگا تھا ۔ بہت سے لوگ مارے گئے ۔ ایک سو افراد مر گئے ۔ اس میں وینیزویلا اور کیوبا کے پچپن افراد شامل ہیں ۔ وینیزویلا پر چھاپہ ایک معاہدہ تھا اور اس سے بہت پریشانی ہوئی ۔ وینیزویلا کے صدر کو پکڑنے کی کارروائی کامیاب نہیں ہو سکی ۔ اس سے بہت سے لوگ بہت پریشان ہوئے ۔ وینیزویلا اور وہاں رہنے والے لوگ اب بھی جو کچھ ہوا اس سے نمٹ رہے ہیں ۔
اس واقعے کے بعد اس بارے میں بحث چھڑ گئی کہ کس قانون کے تحت امریکہ نے وینیز ویلا پر حملہ کیا اور اس کے صدر کو ان کی اہلیہ کے ساتھ حراست میں لیا ۔