سالانہ کارکردگی کی رپورٹ کو پبلک انٹرپرائزز کی کابینہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران دیکھا گیا ۔ اس میٹنگ کی قیادت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی ۔ پبلک انٹرپرائزز سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس واقعی اہم تھا ۔ سالانہ کارکردگی کی رپورٹ وہ چیز تھی جس کے بارے میں انہوں نے بات کی تھی ۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہر چیز پر تبادلہ خیال کیا جائے ۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایک اجلاس کے انچارج تھے جہاں پبلک انٹرپرائزز سے متعلق کابینہ کمیٹی نے کارکردگی کی رپورٹ کے بارے میں بات کی ۔ انہوں نے اس میٹنگ میں کارکردگی کی رپورٹ پر غور کیا ۔ سالانہ کارکردگی کی رپورٹ ایک ایسی چیز ہے جسے پبلک انٹرپرائزز سے متعلق کابینہ کمیٹی ہر سال دیکھتی ہے ۔ اجلاس کی قیادت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی ۔
انہوں نے کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں ہمیں بتایا کہ مالی سال 25-2024 میں سرکاری اداروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ سرکاری اداروں کا مجموعی خسارہ 122.9 ارب روپے تھا ۔ پیسہ کمانے والے سرکاری اداروں نے پہلے کی طرح اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ ان کا منافع 13 فیصد کم ہو کر 709 ارب روپے رہ گیا ۔ پیسہ کھونے والے سرکاری اداروں نے تھوڑا بہتر کام کیا ۔ ان کے نقصانات میں 2 فیصد کمی واقع ہوئی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم تھیں ۔ اس سے ریاستی ملکیت والے کاروباری اداروں کی آمدنی متاثر ہوئی ۔ ریاستی ملکیت والے کاروباری اداروں نے زیادہ پیسہ نہیں کمایا جیسا کہ وہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کرتے تھے ۔
انچارج لوگوں کو بتایا گیا کہ مالی نقصانات کا ذمہ دار نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں ہیں ۔ حکومت نے ریاست کی ملکیت والے کاروباری اداروں کو کافی رقم دی ۔ یہ 2078 ارب روپے تھی ۔ حکومت کو اداروں سے بھی کافی رقم ملی ، جو 2119 ارب روپے تھی ۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں اب بھی مسائل پیدا کر رہی ہیں ۔ حکومت ریاستی ملکیت والے کاروباری اداروں کو مدد فراہم کر رہی ہے ۔
سرکاری اداروں کا کل قرضہ بڑھ کر 9570 ارب روپے ہو گیا ہے ، ایس او ایز کی غیر فنڈ شدہ پنشن واجبات بڑھ کر تقریبا 2 ہزار ارب روپے ہو گئی ہیں ، فروری 2026 تک آئی ایف آر ایس کے تحت رپورٹنگ مکمل کرنے کی ہدایت ۔ بیان کے مطابق اجلاس میں آڈٹ مکمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی ، ایس او ای میں اصلاحات کے نفاذ اور شفافیت کے حکومتی عزم ، مختلف پاور کمپنیوں میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی منظوری دی گئی ۔