حکومت کے پاس ایک وقت تھا ، قومی اسمبلی کے اجلاس میں ۔ انہیں ان کی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی نے شکست دی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی واقعی پریشان تھی ۔ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت کچھ کر رہی ہے ۔ وہ صدر کے دستخط کیے بغیر آرڈیننس جاری کر رہے تھے ۔ اس سے پاکستان پیپلز پارٹی بہت ناراض ہوگئی ۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ۔ اس کی قیادت قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی ۔ انہوں نے مرنے والے لوگوں کے لیے کچھ دعائیں کہیں ۔ اس میں قومی اسمبلی کے سابق رکن میاں منظور احمد وتو بھی شامل تھے ۔ اس ملاقات کی اطلاع ایکسپریس نیوز نے دی ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس مرنے والے لوگوں کی وجہ سے بہت دکھی تھا ۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق قومی اسمبلی کے اجلاس کے انچارج تھے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے ایوان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے اعتراض کے بارے میں بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے وہ اپوزیشن لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں وہ ایک چیز ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما کا خیال ہے کہ یہ عمل خوش آئند ہے ۔

اس شخص نے صدر کے فیصلے کے بارے میں بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی حکومت کے لیے ایک برا دن ہے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ صدر کے یہ کہے بغیر کہ یہ ٹھیک ہے اور اس پر دستخط کیے بغیر ایک بڑا قاعدہ بنایا گیا تھا ۔ صدر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان چیزوں کی منظوری اور دستخط کرے ۔

اس شخص نے کہا کہ یہ سمجھنا واقعی مشکل ہے کہ وفاقی حکومت نے یہ کام کیسے کیا ۔ آئین کی اس خلاف ورزی پر پاکستان پیپلز پارٹی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا ۔ انہوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وفاقی حکومت نے کچھ غلط کیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے جو کیا اس سے پاکستان پیپلز پارٹی پریشان ہے ۔

یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کے ایوان سے واک آؤٹ کرنے پر سید نوید احمد قمر نے کہی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان خوش نہیں تھے ۔ وہ باہر چلے گئے ۔ سید نوید احمد قمر نے یہ بیان اس وقت دیا تھا ۔

وزیر قانون نذیر تارڑ نے پیپلز پارٹی کو یقین دلایا کہ وہ متعلقہ لوگوں سے مل کر صورتحال کا جائزہ لیں گے ۔ یہ کیسے ہوا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں ایک جعلی نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے ۔