اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ اور فیڈرل انٹیلی جنس ایجنسی کی پولیس نے کچھ لوگوں کو پکڑنے کے لیے مل کر کام کیا ۔ انہوں نے دو افراد کو گرفتار کیا جو ایک ایسے گروہ کا حصہ تھے جو ایک طرح سے تاجروں اور صنعت کاروں سے پیسے مانگ رہے تھے ۔ انہوں نے تین افراد کو بھی پکڑا جو لوگوں کو لوٹ رہے تھے ۔ اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس اور فیڈرل انٹیلی جنس ایجنسی نے یہ کام آپریشن کے دوران کیا ۔ وہ بھتہ خوری کرنے والے گروہ اور ڈکیتی کرنے والے گروہ کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس اور فیڈرل انٹیلی جنس ایجنسی ان لوگوں کو پکڑنے میں کامیاب رہے کیونکہ انہوں نے مل کر کام کیا تھا ۔

پولیس نے کہا کہ انہوں نے ٹیموں کے ساتھ مل کر ان لوگوں کو پکڑنے کے لیے کام کیا جو برے طریقے سے پیسے مانگ رہے تھے ۔ انہوں نے صمد کتھواڑی نامی ایک شخص کو پکڑا جو ان کے خیال میں یہ کام کر رہا تھا ۔ انہوں نے دو افراد کو بھی پکڑا جو اس اللہ لاکھو نامی شخص کے ساتھ کام کرتے تھے ۔ ان دو افراد کے نام ابو ہریرہ اور دلاور ہیں ۔ ان لوگوں کو پکڑنے کے لیے مل کر کام کرنے والی ٹیموں کو ایس آئی یو اور فیڈرل انٹیلی جنس ایجنسی کہا جاتا ہے ۔

پولیس نے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا جو شہر کے تاجروں سے پیسے لے رہے تھے ۔ ایس ایس پی ایس آئی یو ڈاکٹر عمران خان نے بتایا کہ پولیس نے ان لوگوں کو شہر کے علاقوں میں چھاپوں کے دوران پایا ۔ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا وہ وہی ہیں جو تاجروں سے بھتہ خوری کا یہ کام کر رہے تھے ۔

اس شخص نے کہا کہ جس شخص کو گرفتار کیا گیا ہے وہ جا کر تاجروں اور صنعت کاروں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرے گا ۔ اس کے بعد وہ بھتہ خوری کرنے والے گروہ کے رہنما کو تمام معلومات دیتا جو دوسرے ملک میں رہتا تھا ۔ بھتہ خوری کرنے والے گروہ کا رہنما اس معلومات کو ممالک میں فون نمبروں سے تاجروں سے رقم مانگنے کے لیے استعمال کرتا تھا ۔ بھتہ خوری کرنے والے گروہ کا رہنما وہ تھا جو انچارج تھا ۔ وہ وہی تھا جو تاجروں کو فون کرتا اور ان غیر ملکی نمبروں کا استعمال کرتے ہوئے ان سے رقم کا مطالبہ کرتا ۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے بتایا کہ جن لوگوں کو انہوں نے گرفتار کیا تھا وہ بھی پولیس کو نیو کراچی میں کسی سے پیسے لینے کے الزام میں مطلوب تھے ۔ نیو کراچی میں بھتہ خوری کے اس معاملے کی وجہ سے پولیس ان لوگوں کی تلاش کر رہی تھی ۔

اس شخص نے بتایا کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا انہوں نے گارمنٹ فیکٹری کے مالک کو اس سے پیسے لینے کے لیے فون کیا تھا ۔ انہوں نے فیکٹری کے مالک کو خوفزدہ کرنے کے لیے اس کے گھر پر بھی گولیاں چلائیں ۔ گرفتار کیے گئے لوگوں نے گارمنٹس فیکٹری کے مالک کو ڈرانے دھمکانے کے لیے ایسا کیا ۔

اس شخص نے کہا کہ پولیس نے اس شخص کے خلاف مقدمہ شروع کر دیا ہے جس نے کچھ غلط کیا ہے اور وہ اب بھی اس کی چھان بین کر رہے ہیں ۔ پولیس اب بھی مزید جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملزم شخص نے کیا کیا ۔

ایس آئی یو سے تعلق رکھنے والی پولیس نے کورنگی زمان قصبے کے علاقے میں گرفتاری کی ۔ انہوں نے تین افراد کے ایک گروہ کو پکڑا جو جرائم کا ارتکاب کر رہے تھے ۔ پولیس کو ان کے پاس سے بندوقیں اور تین پستول ملے ۔ انہیں کچھ فون بھی واپس مل گئے جو گینگ نے لوگوں سے چوری کیے تھے ۔ پولیس نے ڈاکوؤں کے تین رکنی گروہ کو حراست میں لے لیا ۔ ڈاکو گروہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور فون سمیت ان کی چیزیں چوری کرنے کے لیے اسلحہ اور پستول استعمال کر رہا تھا ۔

پولیس نے بتایا کہ جس شخص کو انہوں نے گرفتار کیا وہ ایک ایسا شخص تھا جو لاندھی ، کورنگی ، مالیر ، قائد آباد اور انڈسٹریل ایریا جیسی جگہوں پر کاروبار کرتا تھا ۔ گرفتار ملزم لاندھی ، کورنگی ، مالیر ، قائد آباد اور انڈسٹریل ایریا کے ان علاقوں میں کاروبار کرتا تھا ۔

مزید بتایا گیا کہ گرفتار ملزم کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہے ، ایس آئی یو میں ملزم کے خلاف ڈکیتی اور موبائل فون چھیننے کے مقدمات درج کیے گئے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے ۔