علی شمخانی نے کہا کہ ایرانی عوام جانتے ہیں کہ امریکہ کا “بچاؤ” سے کیا مطلب ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ ایرانی عوام اس بات کو سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے دیکھا ہے کہ جب امریکہ ملوث ہوا تو عراق ، افغانستان اور غزہ میں کیا ہوا ۔ ایرانی عوام کو نہیں لگتا کہ امریکہ نے ان جگہوں کی مدد کی ۔ علی شامخانی کا خیال ہے کہ ایرانی عوام اس بات سے واقف ہیں کہ عراق ، افغانستان اور غزہ میں امریکی مداخلت سے ان ممالک کو راحت نہیں ملی ۔ ایرانی عوام جانتے ہیں کہ جب بات امریکہ اور اس کے “بچاؤ” کے خیال کی ہو تو ایران کو محتاط رہنا ہوگا ۔
اس شخص نے کہا کہ اگر کوئی کسی وجہ سے ایران کی حفاظت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ کچھ کرنے سے پہلے اس شخص کو روک دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایران کی سلامتی میں مداخلت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ایران انہیں ایسا نہیں کرنے دے گا ۔ ایران تک پہنچنے سے پہلے ایران کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے کسی بھی ہاتھ کو ایران کاٹ دے گا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران ایران کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کو روک دے گا چاہے وہ جو بھی کہیں ان کی وجہ ہو ۔ ایران اپنی حفاظت کرے گا ۔ ایران کی حفاظت میں کسی کو مداخلت نہیں کرنے دیں گے ۔
علی شامخانی نے کہا کہ اگر کوئی ایران کے خلاف کچھ کرتا ہے تو ایران اس کا جواب اس طرح دے گا جس سے انہیں بہت افسوس ہوگا ۔ ایران اس بات کو یقینی بنائے گا کہ دوسرے فریق کو اپنے کیے پر برا لگے ۔ علی شامخانی ایران کی بات کر رہے ہیں ۔ وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایران چیزوں کو ہلکے سے نہیں لے گا ۔ اگر کوئی ایران کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو ایران ان کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا ۔ یہ ان کے لیے برا ہوگا ۔ ایران اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے اور علی شامخانی سب کو خبردار کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے ایران کے ساتھ گڑبڑ کی تو کیا ہوگا ۔
سینئر ایرانی رہنما نے ایک اہم بات کہی ۔ ایران کی قومی سلامتی ان کے لیے ایک معاہدہ ہے ۔ وہ اس معاملے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ رہنما نے خطے کے بارے میں بھی بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسی جگہ نہیں ہے جہاں لوگ لاپرواہ رہیں یا ایسے بیانات دیں جو پریشانی کا باعث بن سکتے ہوں ۔ ایران کی قومی سلامتی ان کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔
علی شامخانی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران میں مظاہروں اور U.S. کے بیانات کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے ۔