اسلام آباد: حکومت بہت جلد بجلی کے نرخوں کا اعلان کرنے والی ہے ۔ ان نئے نرخوں سے ملک میں ہر ایک کے لیے بجلی کے بلوں کو یکساں بنانے میں مدد ملے گی ۔ اس کے پیچھے بنیادی خیال پورے ملک میں بجلی کے لیے ٹیرف رکھنا ہے ۔ بجلی کے نئے نرخوں کا لوگ ابھی انتظار کر رہے ہیں ۔
ایکسپریس نیوز کے لوگوں نے بتایا کہ بجلی کے نرخوں کے بارے میں ایک میٹنگ تھی ۔ اس میٹنگ کی قیادت نیپرا کے انچارج نے کی تھی جس کا نام قاسم مختار ہے ۔ وفاقی حکومت نے نیپرا سے کہا کہ وہ اس بارے میں درخواست کرے ۔ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ملک میں ہر کوئی بجلی کی شرح ادا کرے ۔ یہ میٹنگ اس پٹیشن کے بارے میں تھی جو وفاقی حکومت نے نیپرا میں دائر کی تھی ۔ نیپرا وہ جگہ ہے جو صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں کے بارے میں ان چیزوں کا فیصلہ کرتی ہے ۔
وفاقی حکومت بجلی کی قیمتوں کے قوانین میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے ۔ وہ یہ بھی منصوبہ بنانا چاہتے ہیں کہ لوگ بجلی کے لیے کتنی رقم ادا کرتے ہیں ۔ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ تمام کے الیکٹرک صارفین بجلی کی قیمت ادا کریں ۔ جب ایسا ہوگا تو وہ نیپرا ایکٹ کی دفعہ 31 کے تحت قیمتوں کے بارے میں نوٹس بھیجیں گے ۔ وفاقی حکومت اور کے الیکٹرک صارفین کو اس نوٹس پر عمل کرنا ہوگا ۔
بجلی کے نئے نرخ 15 جنوری سے شروع ہوں گے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی سے منظوری درکار ہے ۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو شروع ہونے سے پہلے بجلی کے نرخوں کے لیے ہاں کہنا پڑتا ہے ۔ بجلی کے نئے نرخوں کا ہر کوئی 15 جنوری سے نفاذ کا انتظار کر رہا ہے ۔
پاور ڈویژن کے لوگوں نے نیپرا کی سماعت میں بجلی کی قیمتوں کے بارے میں بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 26% کم ہو رہی ہے ۔ لہذا صنعتی صارفین 46.31 روپے فی یونٹ 62.99 روپے ادا کریں گے ۔
صنعتی صارفین صارفین کی مدد کے لیے جو اضافی رقم ادا کر رہے تھے ، جسے کراس سبسڈی کہا جاتا ہے ، وہ بھی کم ہو رہی ہے ۔ یہ 225 ارب روپے تھا ۔ اب یہ 102 ارب روپے ہے ۔
پاور ڈویژن کے عہدیداروں نے کہا کہ یہ صنعتی صارفین کے لیے کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی کمی ہے ۔ صارفین کے لیے بجلی کے نرخ واقعی کم ہو رہے ہیں ۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ بجلی کے قومی اوسط نرخ 53.04 روپے سے کم کرکے 42.27 روپے فی یونٹ کردیا گیا ہے ۔ بجلی کے نرخوں میں زرعی شعبے کے لیے 16% اور تجارتی صارفین کے لیے 10% کمی کی گئی ہے ۔ عام خدمات کی شرحوں میں 12% اور بلک صارفین کے لیے 15% کمی کی گئی ہے ۔ آزاد جموں و کشمیر کے ٹیرف میں نمایاں طور پر 46% کمی کی گئی ہے ۔