ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ دسمبر میں ہمارا تجارتی خسارہ تھا ۔ اس تجارتی خسارے کا حساب ہر ماہ اور ہر سال لگایا جاتا ہے ۔ جب ہم ایک ماہ سے اگلے مہینے تک تجارتی خسارے کو دیکھتے ہیں تو اس میں 28.38 فیصد اضافہ ہوا ۔ تجارتی خسارہ بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 23.79 فیصد بڑھ گیا ۔ تجارتی خسارہ اب بھی ایک مسئلہ ہے اور تجارتی خسارے کے اعداد کو سمجھنا ضروری ہے ۔

اس سال دسمبر میں تجارتی خسارہ بہت زیادہ تھا جو 3.77 ارب ڈالر تھا ۔ تجارتی خسارہ تجارتی خسارے اور ممالک سے خریدی جانے والی چیزوں کی مقدار کے درمیان فرق ہے ۔ دسمبر میں ہم نے ممالک کو جو چیزیں فروخت کیں ، یعنی ہماری برآمدات میں 4.36 فیصد کمی واقع ہوئی ۔ دوسری جانب ہم نے دوسرے ممالک سے جو چیزیں خریدیں ، یعنی ہماری درآمدات میں 13.49 فیصد اضافہ ہوا ۔

دسمبر میں ہماری برآمدات 0.317 ارب ڈالر تھیں ۔ ہماری درآمدات 6.22 بلین ڈالر تھی ۔ اس لیے ہمارا تجارتی خسارہ اب بھی ایک مسئلہ ہے کیونکہ ہماری درآمدات ہماری برآمدات سے بہت زیادہ ہیں ۔ تجارتی خسارہ اس وقت ہوتا ہے جب ہماری درآمدات ہماری برآمدات سے زیادہ ہوتی ہیں ۔

دسمبر میں برآمدات میں 20.41 فیصد کمی آئی اور درآمدات میں 2 فیصد اضافہ ہوا جب ہم ان کا سال سے موازنہ کرتے ہیں ۔

جولائی سے دسمبر کے مہینوں میں تجارتی خسارہ 9.24 ارب ڈالر رہا ۔

برآمدات اور درآمدات کے تجارتی خسارے میں 34.57 فیصد اضافہ ہوا جب ہم اسے سال بہ سال دیکھتے ہیں ۔

برآمدات اور درآمدات بہت اہم ہیں ۔ برآمدات اور درآمدات کا تجارتی خسارہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے ۔

اسی عرصے کے دوران جولائی تا دسمبر تجارتی خسارہ 9.24 ارب ڈالر اور برآمدات 5.18 ارب ڈالر رہی ۔